سندھ میں سیلاب: کپاس، چاول کی تباہ حال فصلیں اور سود لے کر کاشت کرنے والے کسانوں کی دوہری پریشانی

 سکھر بیراج سے سفر کرتے ہوئے ہم دریائے سندھ کے دائیں کنارے سے بائیں کنارے کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں دیکھا کہ دریائے سندھ مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ بی بی سی کے نامہ نگار یاض سہیل کا سندھ کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ۔

sindh flood
BBC

ٹوٹا ہوا گھر، زیر آب فصل، نہ اولاد اور نہ ہی شوہر کا ساتھ۔۔۔ آنے والا وقت کیسے گذرے گا؟ شھدادکوٹ کی زربخت بروھی کے ذہن میں بس یہی سوال اٹکا ہوا ہے۔

زربخت بیوہ ہیں اور ان کی پانچ ایکڑزمین ہے جو ان دنوں جھیل کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ان کی کمائی اور روزگار چاول کی فصل سے وابستہ ہے جو سال میں ایک ہی بار ہوتی ہے۔

سندھ میں رواں سال غیر معمولی بارشیں ہوئیں اور حکومت سندھ کا دعویٰ ہے کہ یہ معمول سے 700 فیصد زائد تھیں جس کے نتیجے میں صوبے کے 19 اضلاع متاثر ہوئے اور بارش کا تقریبا 100 ملین ایکڑ فٹ تک پانی جمع ہو گیا۔

اس سیلاب کی وجہ سے جہاں جانی اور مالی نقصان ہوا ہے وہیں صوبے کی 35 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی زمینوں پر موجود فصیلیں تباہ ہو گئیں ہیں۔

’سود والے مجھے چھوڑیں گے تو نہیں‘

شمالی سندھ میں چاول کی فصل وافر مقدار میں ہوتی ہے لیکن شھدادکوٹ ایک طرف بارشوں سے متاثر ہوا تو دوسری طرف بلوچستان سےآنے والے سیلابی پانی نے صورتحال مزید بگاڑ دی۔

زربخت نے مجھے بتایا کہ ویسے تو بارش کئی روز جاری رہی لیکن ’جو بارش 10 روز مستقل ہوئی اس سے سب کچھ درہم برہم ہوگیا۔‘

’یہاں چاول کی فصل ہوتی ہے، میراسال بھر کا علاج معالجہ، کھانا پینا اسی سے ہوتا ہے۔ اب یہ فصل گئی، جو میں نے سود پر کھاد اور بیج لیا وہ تو ضائع ہو چکا ہے لیکن وہ سود والے مجھے چھوڑیں گے تو نہیں۔ میں بیوہ عورت کہاں جاؤں، کیا کروں۔‘


سیلاب
BBC

زربخت نے ہمیں اپنا کچا مکان بھی دکھایا جو گر چکا تھا۔ ان کی تین بھیڑیں بھی ہلاک ہو چکی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’فی ایکڑ پر 60 ہزار روپے خرچہ آتا ہے۔‘

خرچہ نکال کر ان کو دو ڈھائی لاکھ روپے بچ جاتے ہیں جن سے وہ اپنا سال بھر کا خرچہ چلاتی ہیں۔ لیکن اس وقت ان کے پاس کچھ نہیں۔

’چاول کھانے کے قابل نہیں ہے‘

سندھ میں جولائی سے اگست تک چاول کا بیج لگایا جاتا ہے جس کے لیے زمینوں کو پانی سے بھر دیا جاتا ہے۔ اگست میں جب شدید بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا تو یہ فصل مکمل زیرآب آ گئی۔

سندھ کے محکمہ زراعت کے مطابق 25 لاکھ ایکڑ پر چاول کی کاشت کی گئی تھی جو 100 فیصد خراب ہوئی ہے۔

شھدادکوٹ میں 100 سے زائد رائس سیلرز یا چاول کی صفائی کے کارخانے ہیں۔ حالیہ بارشوں سے ان کارخانوں کا ڈھانچہ متاثر ہوا۔ چھتیں ٹپکنے سےگوداموں میں جو چاول موجود تھے وہ بھی خراب ہو گئے۔

انیل کمار چاول کی صفائی کے دو کارخانوں کے مالک ہیں۔ ہم جب وہاں پہنچے تو ان کے کارخانےکے میدان میں چاول پھیلے ہوئے تھے اور بوریاں کاٹ کاٹ کر انھیں نکالا جارہا تھا۔ ان کی شکل ایسی تھی جیسے پکانے سے پہلے چاول کو پانی میں بھگویا جاتا ہے۔

انیل کمار
BBC

انیل کمار نے ہمیں دھان کے دانے دکھائے اور بتایا کہ کارخانے میں صفائی کے بعد اس کو چاول کی شکل دی جاتی ہے۔ ’بارش سے جو پانی آیا ہے اس نے یہ شکل اختیار کرلی ہے، اب یہ چاول مرغیوں کی فیڈ وغیرہ میں کام آجائے تو ٹھیک ہے ورنہ کھانے کے قابل نہیں ہے۔‘

رائس سیلرز کے پاس نومبر سے چاول کی نئی فصل آنا شرو ع ہو جاتی ہے اور دسمبر اور جنوری اس کا عروج ہوتا ہے۔

انیل کمار کے مطابق 80 فیصد فصل خراب ہو چکی ہے جس کی وجہ سے صرف پانچ فیصد کارخانے ہی بمشکل چل سکیں گے۔ ایک کارخانے میں 20-25 مزدور کام کرتے ہیں جن کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔

سندھ میں حالیہ بارشوں سے کسانوں اور کاشت کاروں پر پڑنے والےاثرات جاننا ہی ہمارے حالیہ سفر کامقصد تھا۔ جب سکھر بیراج سے سفر کرتے ہوئے ہم دریائے سندھکے دائیں کنارے سے بائیں کنارے کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں دیکھا کہ دریائے سندھ مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔

sindh flood
BBC

جیسے ہی قومی شاہراہ پر خیرپور سے گذرے تو کھجور کے درخت زیر آب نظر آئے، رواں سال سب سے پہلے کھجور متاثر ہوئی تھی جیسے ہی بارش ہوئی تو اس کا پھل کھٹا ہو گیا۔

کاشت کاروںنے اس کو چھوہارا بنانے کو ترجیح دی۔ یہ چھوہارا سوکھنے کے لیے میدانوں اور مارکیٹ میں موجود تھا جب مزید بارشنے اسے بھی خراب کر دیا۔

بارشوں سے ٹوٹی ہوئی سڑکوں سے گذرتے اور راستے میں پانی سے بھری ہوئی فصلوں کو دیکھتے ہوئے ہم وسطی سندھ کے ضلع سانگھڑ پہنچے۔

پانی میں ڈوبی ہوئی کپاس

پاکستان میں 13 لاکھ کسان 6 ملین ایکڑرقبے پر کپاس کی کاشت کرتے ہیں۔ کپاس کی چنائی خواتین کرتی ہیں جو ان کی آمدنی کا ذریعہ ہے لیکن ان کی زمینیں اس وقت زیر آب ہیں۔

صادق علی اور ان کے پانچ بھائیوں کے پاس 36 ایکڑ زمین ہے جس پر کپاس کی فصل لگی ہوئی تھی۔ جب ہم ان کی فصل دیکھنے پہنچے تو اس وقت بھی پانی ہمارے گھٹنوں سے اوپر تھا۔

صادق علی کے مطابق آٹھ دن مسلسل بارش ہوئی اور ساری فصل ڈوب گئی۔ ایک ایکڑ پر ایک لاکھ کے قریب خرچہ آتا ہے اور وہ مقامی سیٹھوں سے قرضے پر کھاد اور بیج لیتے ہیں۔ اب یہ سود بھی ان پر چڑھ چکا ہے۔

کپاس
BBC

صادق علی دیگر کسانوں کے ہمراہ پانی میں موجود کپاس کے پودوں سے کپاس نکال رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جو بچ گئی ہے اس کو نکال رہے ہیں تاکہ کچھ تو خرچہ نکل سکے۔‘

2011 میں بھی سانگھڑ میں اسی طرح سیلابی صورتحال تھی۔

صادق علی کے مطابق اس وقت وہ کپاس کی آدھی فصل لے چکے تھے لیکن اس بار وہ کچھ نہیں لے سکے ہیں۔ ان دنوں بھی زمین کو قابل کاشت بنانے میں ایک سال کا عرصہ لگ گیا تھا اس وقت بھی اگر پانی نہیں نکلا تو وہ اگلی فصل نہیں لگا سکیں گے۔

سانگھڑ میں 100 کے قریب کاٹن جننگ فیکٹریاں ہیں جن میں سے کئی تو کاٹن کے بیج بنولہ سے خوردنی تیل بھی نکالتی ہیں۔ بنولہ آئل پاکستان میں زیر استعمال خوردنی تیل کا 75 فیصد ہے۔

sindh
BBC

نوابشاہ سانگھڑ روڈ پر ایک رنگ بند باندھا گیا تھا دوسری طرف پانی ہی پانی تھا۔ یہاں نیو جھولے لال کے نام سے کاٹن فیکٹری تھی جس میں سے کشتیوں کے ذریعے کپاس لائی جارہی تھی جبکہ فیکٹری پانی کے گھیرے میں تھی۔

فیکٹری کے مالک راموں مل نے ہمیں بتایا کہ انھوں نے 2009 میں یہ فیکٹری لگائی تھی، جو 2011 کے سیلاب میں ڈوب گئی اور انہیں 10 کروڑ کا نقصان پہنچا۔

انھوں نے بمشکل یہ قرضہ اتارا ہی تھا کہ ایک اور سیلاب آ گیا۔ فیکٹری میں ان کے پاس 15 ہزار من کپاس، 10 ہزار بنولہ اور مشینری موجود تھی جو ساری تباہ ہو گئی اور انھیں 15 کروڑ کا نقصان پہنچا۔

کپاس
BBC

رائس سیلرز کی طرح یہ کاٹن فیکریاں بھی مقامی سطح پر روزگار کا ایک بڑا ذریعہ ہیں اور ہر فیکٹری میں 20-25 مزدوری دیہاڑی پر کام کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے

پاکستان کے وسطی پنجاب کے علاقے سیلاب سے کیسے محفوظ رہے ہیں؟

سیلاب ڈائری: ’میری بیٹیوں کا جہیز بھی بہہ گیا‘

کیا انڈین پیاز اور ٹماٹر ہی پاکستان میں سیلاب کے بعد قیمتیں کم کرنے کا واحد حل ہے؟

پاکستان دنیا میں کپاس کی پیداوار کے لحاظسے پانچواں بڑا ملک ہے۔ سندھ کے محکمہ زراعت کے مطابق ساڑھے 14 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر کپاس کی فصل لگائی گئی تھی جو تقریبا 100 فیصد ہی خراب ہو چکی ہے۔

زیر آب فصلوں میں جو کپاس بچ گئی ہے اس کی کوالٹی معیاری نہیں جسے فیکٹریوں میں لے جایا تو جا رہا ہے لیکن 7000 من سے زیادہ قیمت نہیں مل رہی۔ اس صورتحال میں زمیندار، کسان، مل مالکان اور مزدور سب کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے۔

ایک بار پھر مرچ متاثر

سانگھڑ سے سیلابی پانی کا رخ میرپورخاص اور عمرکوٹ کی طرف تھا جہاں سے یہ نوکوٹ اور بدین سے ہوتا ہوا سمندر میں جاتا ہے۔

ہماری اگلی منزل بھی عمرکوٹ تھی جہاں زیادہ تر مرچ کی فصل ہوتی ہے ۔سندھ کے محکمہ زراعت کا کہنا ہے کہ ساڑھ 36 لاکھ ایکڑ پر مرچ لگائی تھی اور 91 فیصد فصل متاثر ہوئی ہے۔

سیلاب
BBC

عمرکوٹ کی سامارو تحصیل میں ٹریکٹروں کی مدد سے پانی نکالا جا رہا تھا جس کا خرچہ زمیندار جیب سے ادا کر رہے تھے۔ یہاں 2011، اس کے بعد 2020 اور اب 2022 میں بارشوں نے فصلوں میں تباہی مچائی۔

اشوک کمار 10 ایکڑ زمین کے کاشت کار ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ بارشوں سے قبل زرعی پانی کی قلت تھی اور شدید گرمی سے مرچ کی فصل سوکھ رہی تھی۔

اس کے بعد بارشیں ہوئیں اور اب وہ پانی کی نکاسی کے لیے فی ایکڑ 30 سے 40 ہزار روپے خرچ کر رہے ہیں جبکہ کاشت کے دوران فی ایکڑ پر ایک لاکھ لاگت آئی تھی۔

اشوک کمار کہتے ہیں کہ حکومت کو ریلیف دینا چاہیے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ ریلیف کیا ہو سکتا ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ کھاد اور بیج پر سبسڈی دی جائے اور اس سے پہلے پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا جائے۔

محکمہ آبپاشی سندھ کا دعویٰ ہے کہ 15 اکتوبر تک پانی کی نکاسی مکمل ہو جائیگی اور اگلی فصللگ سکے گی۔ لیکن اب تک ان زمینوں پر پانی ہی پانی ہے اور ایسا ممکن ہوتا نظر نہیں آتا۔



Source Page       

Post a Comment

Thanks For Comment

Previous Post Next Post