چین کے سب سے بڑے MeToo# مقدمے کا سماعت سے قبل ہی عدالت سے باہر فیصلہ

 یہ چین کا سب سے بڑا MeToo# مقدمہ ہوسکتا تھا جو دنیا کے دوسرے سرے پر امریکی ریاست مینیسوٹا میں چلایا جاتا۔

رچرڈ لیو کو چین میں لیو کیانگڈونگ کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ الزام 25 سالہ طالبہ لیو جنگیاؤ نے لگائے تھے
Getty Images
رچرڈ لیو کو چین میں لیو کیانگڈونگ کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ الزام 25 سالہ طالبہ لیو جنگیاؤ نے لگائے تھے

یہ چین کا سب سے بڑا MeToo#مقدمہ ہو سکتا تھا جو دنیا کے دوسرے سرے پر امریکی ریاست مینیسوٹا میں چلایا جاتا۔



اس 'می ٹو' کے الزامات کی زد میں چین کے ایک 49 سالہ ارب پتی تھے جنھیں چین کے 'جیف بیزوس' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ الزام لگانے والی ایک 25 سالہ چینی نژاد طالب علم تھیں جنھوں نے اپنے ساتھ جنسی زیادتی کا دعوی کیا تھا۔

اس کیس کی سماعت کا چین میں کسی کھلی عدالت میں ہونا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے۔

بہر حال مقدمے کی سماعت امریکی ریاست مینیسوٹا کی ہینپین کاؤنٹی میں ہونا طے تھا جہاں مبینہ جنسی زیادتی کا معاملہ پیش آيا تھا۔

لیکن عدالت میں کارروائی شروع ہونے سے قبل والی شام ہی کیس نے ڈرامائی موڑ لے لیا۔ دونوں فریقین نے عدالت سے باہر تصفیے پر اتفاق کیا اور یہ کہ اب مقدمے کی مزید سماعت نہیں ہوگی۔

الزامات رچرڈ لیو پر لگائے گئے تھے۔ انھیں چین میں لیو کیانگڈونگ کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ الزام 25 سالہ طالبہ لیو جنگیاؤ نے لگائے تھے۔

لیو کی کنیت کی وجہ سے یہ نہ سمجھا جائے کہ دونوں کے درمیان کوئی براہ راست تعلق ہے کیونکہ لیو چین میں ایک مقبول کنیت ہے۔

بی بی سی اپنی رپورٹ میں لیو جِنگیاؤ کا نام لکھ رہی ہے کیونکہ طالبہ اس نام سے اپنی شناخت پہلے ہی ظاہر کر چکی ہیں۔

دونوں جانب سے ہفتہ کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ جو واقعہ رونما ہوا تھا اس کی وجہ سے کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوئی تھیں اور اس نے عوام کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی تھی جس کی وجہ سے فریقین اور ان کے اہل خانہ کو کافی کچھ برداشت کرنا پڑا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اب دونوں فریقوں نے اپنے اختلافات طے کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ مزید قانونی جنگ نہ لڑی جائے۔

اس خبر سے چین کے عوام حیران ہیں اور لوگ بڑی تعداد میں سوشل میڈیا پر اس بابت لکھ رہے ہیں۔ چین کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ویبو پر چند ہی گھنٹوں میں اس سے متعلق ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگے۔

بند کمرے میں معاہدہ

چین کے لوگوں کی نظریں اس مقدمے پر ٹکی تھیں اور وہ اس کیس کو ہزاروں میل دور امریکی عدالت میں چلتا دیکھنا چاہتے تھے۔

امریکی عدالتی نظام چین کے عدالتی نظام سے کہیں زیادہ آزاد کہا جاتا ہے۔

اب جبکہ اس معاملے پر بند کمرے میں تصفیہ ہو گیا ہے تو اس کے بارے میں مزید قیاس آرائیاں شروع ہو سکتی ہیں۔

چین میں شروع ہونے والی 'می ٹو' مہم بھی تنازعات میں گھری رہی ہے۔

30 اگست سنہ 2018 کی رات جو کچھ ہوا اس سے متعلق ویڈیو اور آڈیو کلپس مقدمے کی سماعت شروع ہونے سے قبل ہی منظر عام پر آ چکے تھے اور ان پر لوگوں نے اپنی رائے بھی قائم کرنی شروع کر دی تھی۔

اس وقت لیو جنگیاؤ مینیسوٹا یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھیں۔ انھیں رچرڈ لیو کے زیر اہتمام ایک نیٹ ورکنگ ڈنر میں مدعو کیا گیا تھا۔

رچرڈ ای-ریٹیلنگ کمپنی JD.com کے بانی ہیں۔ اس عشائیہ یا ڈنر میں ان کے علاوہ چین کے اور بھی کئی طاقتور کاروباری لوگ موجود تھے۔ اس ڈنر کے بعد دونوں ہی طالبہ کے اپارٹمنٹ میں چلے گئے تھے۔

چین میں می ٹو کے تحت تحریک
Getty Images
چین میں می ٹو کے تحت تحریک

الزامات کیا تھے؟

طالبہ نے الزام لگایا تھا کہ رچرڈ لیو اور دیگر مہمانوں نے رات کے کھانے کے دوران ان پر ضرورت سے زیادہ شراب پینے کا دباؤ ڈالا تھا۔

طالبہ نے الزام لگایا تھا کہ جب وہ گاڑی میں جا رہے تھے تو رچرڈ نے ان سے زبردستی کی اور وہ اس قدر نشے میں تھیں کہ وہ مزاحمت نہیں کر سکیں۔

طالبہ نے الزام لگایا تھا کہ اس کے بعد وہ ان کے ساتھ اپارٹمنٹ میں آئے اور احتجاج کے باوجود ان کا ریپ کیا۔

ان الزامات پر رچرڈ لیو کا کہنا تھا کہ وہ زیادہ نشے میں نہیں تھیں اور انھیں اپارٹمنٹ میں مدعو کیا گیا تھا جہاں دونوں نے اپنی مرضی سے جنسی تعلق قائم کیا تھا۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد کیا ہوا؟

اس واقعے کے فوراً بعد لیو جنگیاؤنے اپنے ایک دوست کو بتایا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا جس پر ان کے دوست نے پولیس کو بلایا تھا۔

رچرڈ لیو کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کی گرفتاری دنیا بھر کے اخباروں اور میڈیا میں سرخیاں بنیں۔

یہ بھی پڑھیے

’مجھے اذیت اور استحصال کا سامنا کرنا پڑا، اب جو بھی ہو گا اس پر پچھتاوا نہیں‘

’21 برس کی تھی جب ہراساں کی گئی، اب 28 برس کی ہوں اور تھک چکی ہوں‘

رچرڈ نے کسی بھی جرم سے انکار کیا اور اگلے ہی دن انھیں رہا کر دیا گیا۔

چند ہفتوں تک جانچ اور تفتیش جاری رہی جس کے بعد مقامی استغاثہ نے چارج شیٹ دائر کرنے سے انکار کر دیا۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ شواہد کی عدم موجودگی میں الزامات ثابت کرنا مشکل ہو گا۔

لیو اور ان کی اہلیہ نے سنہ 2018 میں شہزادی یوجین کی شادی میں شرکت کی تھی
Getty Images
رچرڈ لیو اور ان کی اہلیہ نے سنہ 2018 میں شہزادی یوجین کی شادی میں شرکت کی تھی

اپریل سنہ 2019 میں لیو جنگیاؤنے سول قانونی مقدمہ دائر کیا اور رچرڈ لیو پر جنسی زیادتی کا الزام لگاتے ہوئے 50,000 امریکی ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا۔

عدالت نے کہا کہ طالبہ کے دعووں پر سول عدالت میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں رچرڈ کی کمپنی کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔

مقدمہ درج ہونے کے بعد واقعے سے متعلق کئی ویڈیوز منظر عام پر آئیں جن میں ریسٹورنٹ کے باہر دونوں کی بات کرنے کی ویڈیو، اپارٹمنٹ کی لفٹ کی ویڈیو اور پولیس کے باڈی کیمروں کی ویڈیو شامل تھیں۔

یہ ویڈیوز سب سے پہلے چین کی ایک گمنام ویب سائٹس پر پوسٹ کی گئیں۔ طالبہ اور ان کے وکلاء نے الزام لگایا کہ یہ سب مقدمے کو کمزور کرنے کی نیت سے لیک کیا گیا ہے۔

اسی دوران رچرڈ لیو کے وکلاء نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ویڈیوز پولیس نے میڈیا کے مطالبے پر جاری کی ہیں۔

تاہم ایک بات طے تھی کہ ان ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد چین کے لوگوں کی رائے رچرڈ کی حمایت میں آ گئی اور طالبہ کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

بہت سے لوگوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ طالبہ نے پیسے حاصل کرنے کے لیے ایسا کیا۔

اتوار کو جب معاہدے کی خبر آئی تو چینی سوشل میڈیا پر دوبارہ کہا گیا کہ طالبہ نے یہ الزامات صرف پیسے لینے کے لیے لگائے تھے۔



Source : BBC urdu

Post a Comment

Thanks For Comment

Previous Post Next Post